ریمانڈ (3)
Admin
08:55 AM | 2020-01-09
میں کیس لاء ز اپنے وکیل بھائیوں کے لئے دے دیتا ہوں اگر 167 کو تلاش کریں گے تواس میں بھی مل جائے گی167 سی آر پی سی1992، پاکستان فوجداری لاء جنرل صفحہ131 اس میں باقاعدہ ہائی کورٹ نے ہولڈ کیا ہے کہ ایک ہی پولیس اسٹیشن میں ایک سے زائد مقدمات ہیں تو ایک کے بعد ایک، ایک کے بعد دو، دوسرے کے بعد تیسرایہ قانون کی منشاء نہیں ہے تمام مقدمات میں ایک ہی دن گرفتاری ڈلے گی تمام مقدمات میں ایک ہی دن ریمانڈ لیا جائے گا اور ریمانڈ لیتے وقت مجسٹریٹ دیکھے گا کہ کس مقدمے میں ریمانڈ ملنا چاہیے کس میں نہیں ۔ اب اس کا دوسرا پہلو آجائے چوبیس گھنٹے کے بعد وہ پیش کیا جاتا ہے مجسٹریٹ صا
حب سے کہا جاتا ہے کہ جناب اس سے ریکوری ہونی ہے حقیقت کی تلاش ہونی ہے یہ ہے یہ اور وہ اس کو متمعین کر دیا جاتا ہے کہ اس کا فزیکلی ریمانڈ ملے تو استغاثہ اپنے پاءو ں پے کھڑا ہوگا اس کا فزیکلی ریمانڈ نہیں ملا تو اس کانہیں ہوگا ۔ اب اگر مجسٹریٹ اس کا فزیکلی ریمانڈ دے دیتا ہے تو ذمہ داری کس کے کندھوں پے آجاتی ہے؟ وہ تفتیشی افسر کے ایک ایک منٹ اسکو واضع کرنا پڑئے گا کہ اس شخص کا جسم اس ملزم کا جسم تمھارے حوالے کیا گیا ایک ایک منٹ کا حساب دو کہ تم نے اس کی تفتیش میں کیا کیا پیش رفت کی؟ اگروہ تین دن وہ کیس ڈائری زمنیز دیکھے گا کہ اس نے کیا کیا کیا اگر سیٹسکو ہے کچھ نہیں اس نے کیا تو استغاثہ کا حصہ اور پارسل ہے تفتیشی افسر ، استغاثہ عدالت سے اس کا ریمانڈ نہیں مانگ سکتی فزیکل ریمانڈ نہیں مانگ سکتی عدالت انکار کردے گی کہ بھئی ایک بندے کا آئینی حقوق ہے آزادی آپ کو میں نے تین دن یاچار د ن یادو دن کے لئے اس کی تحویل دے دی ۔ انتہائی قیمتی حق اس سے لے کے آپ کے حوالے کردیا اور آپ نے اسکو روٹین میں لیاپھر آپ کو سفر کرنا پڑئے گا میں آپ کو اس کا آگے فزیکل ریمانڈ نہیں دونگا میں اس کو جوڈیشل حوالات میں بھیج رہا ہوں ۔ یہ مجسٹریٹ کے اختیارت ہیں سر پہلا ریمانڈ ہے یہ کوئی دلیل نہیں پہلا بھئی ریمانڈچاہیے فزیکل ریمانڈ چاہیے کس لئے؟ یہ مدعی نے کہنا ہے کہ اسلئے چاہیے اور ملزم نے کہنا ہے اسلئے نہیں چاہیے ۔ اب ایک اور مزیدار بات وہ یہ کہ کیا یہ تصور کر لیا جائے کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعدملزم گرفتار کیا جاتا ہے تو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس کو مجسٹریٹ کے سامنے ہی پیش کیا جاناہی ضروری ہے؟ کیا یہ مثلمہ حقیقت ہے اس سوال کا جواب ہے نہیں ضروری نہیں ہے کہ ایک پولیس آفیسر نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا تو اب اس کے راستے بند ہوگئے اب چوبیس گھنٹے کے بعد اس نے مجسٹریٹ کے سامنے ہی پیش کرنا ہے بے گناہی میں یا گناہگاری میں نہیں قانون اختیار دیتا ہے اس گرفتار کرنے والے تفتیشی افسر کو کہ تم ملز م کو گرفتار کرو کرنے کے بعد کیوں کہ پہلے تمہارے پاس صفحہ مثل پر موقف ہے یکطرفہ استغاثہ نے تمام موقف دیا جس کے اوپر تم مجبور ہوگئے کہ اس کو گرفتارکیا جانا ضروری ہے لیکن جیسے ہی ملزم گرفتا ر کیا جا تا ہے اور و ہ اپنا موقف بیان کرتا ہے اور اس موقف میں آپ کو وزن نظر آتا ہے تفتیشی افسر صاحب تو پھرعدالت نے نہیں قانون نے اس قانون نے آپ کو اختیار دیا ہوا ہے کہ آپ اس شخص کو فوری طور پر رہا کردیں آپ اس شخص کو فوری طور پر رہا کردیں کیونکہ اس کے خلاف شہادت ملامت کرنے والے ہے اس کے خلاف اس جرم سے متعلقہ شہادت آپ کے پاس اتنی نہیں ہے کہ آپ اس کو گرفتار کرنے کے بعد اپنے پاس رکھ سکیں ۔ قانون کہتا ہے کہ اگر شہادت نہیں ہے تو تفتیشی افسر169 سی آر پی سی کے تحت اس کو شورٹی لے کے یا بغیر شورٹی اس کو رہا کرسکتا ہے یہ اختیار پولیس کے پاس ہے اسی قانون نے دیا ہے اب اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر 169 کے تحت مبینہ ثبوت کی موجودگی میں اس نے اس کو چھوڑدیا ڈسچارج کردیا رہا کردیا شورٹی بانڈ لینے کے بعد تو وہ اب اس کو دوبارہ گرفتار نہیں کرسکتا وہ اس کو دوبارہ گرفتار کرسکتا ہے جب صفحہ مثل پے ثبوت آجائیں کہ ہاں اس نے یہ جرم کیا ہے وہ دوبارہ بھی گرفتار کرسکتا ہے ہمیشہ یہ بات یا رکھئے گا آپ کا ملزم پکڑا جائے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے تو سب سے پہلا تحرک آپ کا یہ ہونا چاہیے کہ مجسٹریٹ سے کہیں کہ ملز م کا میڈیکل کروایا جائے اگر ملزم کا کوئی وکیل ادھر نہیں ہے ملزم کا کوئی لواحق ادھر نہیں ہے ملزم خود کہے کہ جناب میرا میڈیکل کروایا جائے مجھے قوی شبہ ہے یہ مجھ پے تشدد کریں گے ۔ وہ میڈیکل ہوگا اور ا س میڈیکل سے انیس بیس میڈیکل بعد میں آگیا تو وہ پولیس جواب دے ہوگی ملزم کو وکل ہونا چاہیے کہ دوران فزیکل ریمانڈ میرے ساتھ کیا کیاکیا گیا وہ مجسٹریٹ کو پابند کرسکتا ہے وہ مجسٹریٹ سے یہ درخواست کرسکتا ہے اور اس درخواست کی روشنی میں پابند کرسکتا ہے کہ میرے یہ حقائق میری یہ بتائی گئی باتیں صفحہ مثل کا حصہ بنایا جائے کہ اگر کوئی اضافی عدالتیں حراستی انھوں نے میرا لکھا تو انھوں نے اپنے پلے سے لکھنا ہے میں نے نہیں کیا ۔ پولیس والے لکھ دیتے ہیں نہ وہ جی غلطی ہوگئی معافی دے دیں معافی کا طلب گار ہوں ایک بندہ قتل ہوگیا وہ اس کی اعتراف بیان جناب غلطی ہوگئی جناب معافی دے دیں اسلحہ برآمد کروادوں گا انسانی عقل ہی نہیں مانتی اس چیز کو تفتیش کے پیر امیٹرز ہی نہیں ہے تفتیشی افسروں کے پاس ملزم کو پکڑنا اور ملزم اگر گناہگار ہے اس نے کیا ہے اس کو اس جرم کے ساتھ مناسب طریقے سے منسلک کرنا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے آپ اس کو ٹچ کئے بغیر کرسکتے ہیں آپ میں قابلیت ہونی چاہیے ۔














Leave a comment